’کھلے مین ہول یا نالے میں رات کو ہرگز مت گریں‘

یہ چھ نومبر 2005 کا واقعہ ہے۔ ایک کار، جس میں ایک خاتون اور دو بچے سفر کر رہے تھے، کراچی میں ابوالحسن اصفہانی روڈ پر رات کے اندھیرے میں کھلے نالے میں جا گری کیونکہ سڑک پر کھدائی کے نتیجے میں جمع مٹی کے بڑے سے ڈھیر کے سبب ڈرائیور نالے کی چوڑائی کا درست اندازہ نہیں لگا پایا۔ ڈرائیور اور خاتون زخمی ہوئے مگر خاتون کی 13 سالہ بیٹی عکسِ بتول اور 10 سالہ بیٹا شایان ڈوبتی گاڑی سے بروقت نہ نکالے جا سکے اور ہلاک ہو گئے۔ خاتون کا نام شہلا رضا تھا جو بعد میں سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر رہیں اور اب پیپلز پارٹی کی ایم این اے ہیں۔ جب یہ حادثہ ہوا تو صوبے کے وزیرِ اعلی ارباب غلام رحیم اور مئیر کراچی ایم کیو ایم کے مصطفیٰ کمال تھے جو اب وفاقی وزیر برائے ہیلتھ سروسز ہیں۔ محترمہ شہلا رضا نے اپنے بچوں کی موت کا ذمہ دار بلدیہ کراچی اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ڈھائی کروڑ روپے ہرجانے کا دعوی دائر کیا۔ بلدیہ کراچی نے اپنے طور پر بھی انکوائری کروائی۔ مقدمہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل عرب کی عدالت میں پیش ہوا۔ پھر کیا ہوا؟ کسی کو معلوم ہو تو اس ناچیز کو بھی آگاہ کر دے۔

اپریل 2008 سے آج تک (17 برس) سندھ میں نگراں حکومتوں کے مختصر ادوار کے علاوہ پیپلز پارٹی کی حکومت مسلسل ہے۔ سوا دو برس سے کراچی کے مئیر کا تعلق بھی حکمران جماعت سے ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈز کو چھوڑ کے سندھ کے دارلحکومت کے انتظام و انصرام کے ذمہ دار جتنے بھی ادارے ہیں وہ صوبائی حکومت یا کراچی سٹی گورنمنٹ کے کنٹرول میں ہیں۔ موٹے موٹے اداروں میں بورڈ آف ریونیو، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ، پولیس، ٹریفک مینیجمنٹ، امورِ داخلہ، صحت اور تعلیم کے محکمے بھی شامل ہیں۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد ترقیاتی انفراسٹرکچر، مینجمنٹ اور گورننس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے پیسے کی بھی کمی نہیں۔ پھر بھی ایسا کیوں لگتا ہے کہ بالٹی دیکھنے میں تو بطاہر اچھی ہے مگر پیندے میں چھلنی لگی ہے۔ اس چھلنی سے وسائل کا جو دودھ مسلسل ٹپک رہا ہے اسے ہر طرح کے بلے پی پی کر موٹے تازے ہو رہے ہیں اور جنتا کی گود وضاحتوں، رپورٹوں، نعروں، الزامات اور دعووں سے بھری ہوئی ہے۔

اگر 17 برس پہلے تک کے سابق صوبائی اور شہری منتظمین کرپٹ، چوری کھانے والے مجنوں، متشدد، بدمعاش اور مسخرے تھے تو پھر آپ کے آنے سے گورننس میں کون سی ایسی کمی پوری ہو گئی جو نااہل سابقین کے بس سے باہر تھی۔اختیارات کیا صرف اوپر ہی اوپر جمع کرنے کے لیے ہوتے ہیں یا ان کا استعمال اور پھیلاؤ بھی ہوتا ہے؟ کراچی کو پاکستان کا معاشی انجن کہنا اب زخموں پر نمک چھڑکنے جیسا لگتا ہے۔ کرپشن، نااہلی اور گٹھ جوڑ کا سراغ لگانے کے لیے کسی افسر، عوامی نمائندے، نجی یا سرکاری سراغ رساں سے ملنا یا کانفیڈینشل فائلز دیکھنا ہرگز ضروری نہیں۔ آپ بس یہ کریں کہ ایرپورٹ سے گورنر ہاؤس تک یا چیف منسٹر ہاؤس کے سامنے سے گزرنے والی چکنی سڑک کو چھوڑ کے کسی بھی چھوٹے بڑے راستے پر پیدل یا گاڑی میں نکل جائیں۔ ہر ایک گز ناپنے کے بعد آپ کو لگ پتہ جائے گا کہ گورننس میں کرپشن کے کس قدر گڑھے اور ہچکولے ہیں۔ اس شہر کا حقیقی ڈیٹا کسی کے پاس نہیں۔ اوپر سے نیچے تک سب اندازوں اور آنکڑوں کی بیساکھیوں پر چل رہے ہیں۔ 

کتنی آبادی ہو گی کراچی کی؟ شاید ڈیڑھ کروڑ سے ساڑھے تین چار کروڑ۔ کتنی کچی یا بے قاعدہ آبادیاں ہیں؟ غالباً 30 سے 50 فیصد، مین ہولز کتنے ہیں؟ شاید دو لاکھ یا پھر تین لاکھ۔ ۔ غیر لائسنس یافتہ ہلکے اور بھاری وہیکلز کی کیا تعداد ہو گی؟ بہت ہیں بھائی بہت زیادہ۔ اس شہر میں سیوریج اور پانی کی انڈر گراؤنڈ لائنوں کی ڈرائنگز کس محکمے کی الماری میں ہیں؟ شائد فلاں محکمے میں، شائد فلاں ایجنسی کے پاس، غالباً فلاں ادارے کے پاس۔ سارا نظام غیبی ماڈل پر چل رہا ہے۔ کل کس نے تازہ تازہ سڑک بنائی اور پرسوں کون سا محکمہ اسے کھود گیا۔ اگلے ہفتے بڑے بڑے پائپ لا کر وہاں کس نے رکھ دیے۔ اب انھیں ڈالے گا کون، اس کے بعد مٹی کون پر کرے گا؟ کونسی پوری پوری سڑک دو برس پہلے کھدیڑ دی گئی۔ اس کی جگہ نئی سڑک ڈلنے کی ڈیڈ لائن کیا ہے؟ اسے پتہ ہے، ارے نہیں اسے پتہ ہے، نہیں یار فلانا بتا سکتا ہے۔ سپیڈ بریکرز کون بناتا ہے کون توڑتا ہے، کیا گلیوں میں بیریرز لگانے کی ہر خاص و عام کو اجازت ہے؟

زیرِِ تعمیر پلوں کا تحفظ اور ان کے سریے لوہے سیمنٹ کو نشے بازوں اور کباڑیوں سے بچانا کس ادارے یا کمپنی کی ذمہ داری ہے؟ پارکنگ فیس واقعی ختم ہو چکی ہے یا کوئی بھی مسٹنڈا کہیں بھی پارکنگ کا بورڈ لگا کے بھتہ وصول کر سکتا ہے۔ گویا اس شہرِ آشوب میں جو زرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے۔ اس شہر کے لوگ دعاؤں اور اپنی ذمہ داری پر رواں ہیں۔ باہر بچوں کو آئس کریم کھلانے تو لے جا رہے ہو لیکن اچانک کسی بھی جگہ ڈاکوؤں اور پولیس کی مڈھ بھیڑ میں کہیں کوئی بچہ کم نہ پڑ جائے۔ شاپنگ کیلئے چلے تو جاؤ مگر پہلے پتہ کر لو کہ کہیں جگمگاتے شاپنگ سینٹر کے سامنے اندھا مین ہول نہ کھلا ہو۔ کوئی بچہ انگلی چھڑا کے اس میں غائب ہو گیا تو سر پیٹنے کے سوا کیا کرو گے؟ موٹر سائیکل گھر سے نکال تو رہے ہو مگر آگے پیچھے دیکھ لینا کوئی بدمست واٹر ٹینکر یا بجری کا ڈمپر یا کچرے کا کھلا ٹرک تمہیں لاش نہ بنا دے۔ اس برس ساڑھے پانچ سو اس طرح مر چکے ہیں کہیں تم بھی ان اعداد میں شامل نہ ہو جاؤ۔

کسی کثیر منزلہ اپارٹمنٹ میں رہتے ہو تو آگ نہ لگنے کی دعا کرتے رہو۔ فائر بریگیڈ ایک آدھ گھنٹے میں آ تو جائے گا مگر اس کی گاڑیوں میں پانی بھی ہو ضروری نہیں۔ اگر پانی ہوا بھی تو یہ گارنٹی نہیں کہ اس کا پائپ کتنا اوپر تک پہنچ سکتا ہے۔ اور خبردار۔ رات کے وقت کسی بھی کھلے مین ہول میں گرنے سے پرہیز کریں کیونکہ ریسکیو 1122 کے پاس ایک تو ضروری آلات پورے نہیں اور اگر ہوں بھی تو اندھیرے میں کام کی صلاحیت نہیں اور اگر ہو بھی تو ڈرینیج سسٹم کا نقشہ کسی اور محکمے کے پاس ہے۔ کب وہ نقشہ ریسکیو والوں کے ہاتھ آئے اور کب لاش کی تلاش مکمل ہو۔ اس شہر میں گورننس کا ترجمہ اپنی مدد آپ ہے۔ مجھے اس شخص کی شدت سے تلاش ہے جس نے کراچی کو امیدوں اور روشنی کا شہر قرار دیا۔ یقیناً وہ ناہنجار1980 سے پہلے ہی کوچ کر چکا ہو گا۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ بی بی سی اردو

 

کراچی کی بھلائی نہ جانے والی باتیں

ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بجائے ہم انیس سو سینتالیس کی چودہ اگست کے بعد کراچی میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات چیت جاری رکھتے ہیں۔ پچھلی مرتبہ ہم نے کراچی کا قصہ آدھے میں چھوڑ دیا تھا۔ سلسلہ وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے منقطع ہوا تھا۔ کیماڑی کو جدید بندرگاہ بنانے کے جنون نے انگریز کو اعلیٰ شہر کراچی کی بنیاد ڈالنے پر آمادہ کیا تھا۔ اگست انیس سو سینتالیس کو جب انگریز نے کوچ کیا تھا، وہ اپنے پیچھے لندن، بمبئی اور سورت کی ٹکر کا شہر کراچی چھوڑ گئے تھے۔ کیماڑی، میری ویدر ٹاور اور بولٹن مارکیٹ سے بندر روڈ ایکسٹینشن تک جانے والے روڈ کو انگریز نے نام دیا تھا بندر روڈ، کیماڑی بندر سے شروع ہونے والا روڈ بہت بڑا، چوڑا چکلا ہوتا تھا۔ روڈ کے دونوں اطراف وسیع و عریض پیدل چلنے والوں کیلئے فٹ پاتھ بنے ہوئے تھے۔ فٹ پاتھ پر بیس پچیس فٹ کے فاصلے پر گھنے درخت لگے ہوئے تھے، نیم، پیپل، برگد اور لال بادام کے درخت۔ درختوں کے نیچے لوہے اور لکڑی سے بنے ہوئے خوب صورت بینچ مستقل طور پر فٹ پاتھ کے ساتھ پیوست ہوتے تھے۔ بچے، خواتین اور عمر رسیدہ لوگ بنچوں پر بیٹھے ہوئے اور سستاتے ہوئے دیکھے جاسکتے تھے۔ سنا تھا کہ بینچ انگلستان کے شہر برمنگھم سے بن کر آئے تھے۔

چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے بعد کراچی میں سب سے پہلے دکھائی دینے والی تبدیلیوں میں سرفرست تھیں بندر روڈ سے منسلک فٹ پاتھ سے بینچوں کا غائب ہو جانا، گم کرنے والوں نے اکھاڑ کر بینچ غائب کر دیے تھے۔ چودہ اگست انیس سو سینتالیس سے پہلے کراچی کے تمام روڈ راستوں پر کھلے عام گائیں چلتی، پھرتی اور مزے سے بیٹھی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔ لفظ گائیں جمع ہے گائے کی۔ کراچی کے ہم پرانے باسی ایک گائے کو گائے اور ایک سے زیادہ گائے کو گائیں اور کچھ لوگ گائیاں کہتے تھے۔ گائے پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ پورے شہر کے گلی، کوچوں، سڑکوں اور روڈ راستوں پر دندناتی پھرتی تھیں۔ اگر بیچ سڑک بیٹھ جائیں تو ٹریفک کو رخ بدلنا پڑتا تھا مگر گائے کو اپنی جگہ دل جمعی سے بیٹھنے دیا جاتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے بعد کراچی کی سڑکوں سے گائے غائب ہونے لگیں۔ کچھ عرصہ بعد ہم کراچی والوں نے پھر کبھی کراچی کی سڑکوں پر گائے کو دندناتے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہ بھی ایک بہت بڑی تبدیلی تھی جو چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے بعد کراچی میں ہم نے دیکھی۔ بندر روڈ کے بیچوں بیچ ٹرام چلا کرتی تھی۔

کراچی کے پورے شہر میں ٹرام کی پٹریاں بچھی ہوئی تھیں۔ بولٹن مارکیٹ، کیماڑی، نیپئر روڈ، چاکیواڑہ، کراچی کینٹ اسٹیشن، صدر، گاندھی گارڈن وغیرہ ٹرام کی وجہ سے آپس میں ملے ہوئے تھے۔ آپ ایک آنے میں پورے شہر کا چکر لگا کر آسکتے تھے۔ اس قدر صاف ستھری اور محفوظ سواری کا آپ تصور نہیں کرسکتے۔ پورے یورپ کے شہروں میں ٹرام کا رواج تھا اور اب بھی ہے۔ پچیس تیس برس ٹرام کراچی میں چلتی رہی مگر کبھی ایک اندوہناک حادثے کی خبر سنائی نہیں دی مگر تبدیلی پسند بابوئوں نے سڑک کے بیچوں بیچ چلنے کی وجہ سے ٹرام کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ کسی نے مخالفت نہیں کی۔ کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ پورے شہر سے ٹرام کی پٹریاں اکھاڑ کر ردی میں بیچ دی گئیں اور چالیس پچاس ٹراموں کے کل پرزے نکال کر بیچے گئے۔ اس طرح کراچی کا شہر اپنی ایک لاجواب پہچان سے محروم کر دیا گیا۔ یہ بھی ایک بہت بڑی تبدیلی تھی، بری سہی۔ کراچی کے تمام روڈ راستوں پر جانوروں کے پانی پینے کیلئے حوض بنے ہوئے تھے۔ کراچی کی مقبول عام سواری دو پہیوں والے تانگے اور چار پہیوں والی وکٹوریا گاڑیاں ہوتی تھیں۔ گھوڑوں کے علاوہ ہر طرح کے جانور حوض سے پانی پیتے تھے۔ 

اکثر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ پانی پینے اور ڈبکیاں لگانے حوض پر اتر آتے تھے ۔ تبدیلی پسند یاروں نے پانی کے حوض اس قدر بے دردی سے اکھاڑے کہ لاکھ تلاش کرنے کے باوجود آپ کو کراچی کے کسی کونے کھدرے میں پانی پینے کے حوض کا سراغ تک نہیں ملے گا۔ تب بہت کچھ کھو دیا تھا کراچی نے۔ چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے بعد پہلی تبدیلی حیران کن تھی۔ کراچی کے اکثر بڑے روڈ راستے تھوڑے سے خمدار Curvature ہوتے تھے۔ چھ، سات مہینے کراچی ابر آلود ہوتا تھا اور اکثر بوندا باندی ہوتی رہتی تھی، کیا مجال کہ پانی کے ایک قطرے کیلئے سڑک پر ٹھہرنے کی جگہ ہو۔ راستے یورپ کے راستوں کی طرح کرویچر ہوتے تھے۔ ہلکی گولائی ہوتی تھی، راستوں کی بناوٹ میں۔ گرنے کے فوراً بعد پانی راستے کی دونوں جانب ہو جاتا تھا۔ راستے کی دونوں جانب فٹ پاتھ کیساتھ بڑی جالی والے بڑے گٹر ہوتے تھے۔ سنا تھا کہ لوہے کے ڈھکن بھی برمنگھم سے بن کر آئے تھے۔ چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے بعد سب سے پہلے سڑکوں سے گٹروں پر رکھے ہوئے لوہے کے ڈھکن غائب ہونا شروع ہو گئے تھے۔

امر جلیل

بشکریہ روزنامہ جنگ

آؤ ’’کراچی‘‘ کو یاد کریں

میں نے کراچی کی ’’روشنی‘‘ بھی دیکھی ہے اور ’’اندھیرے‘‘ بھی۔ یہ جیتا جاگتا شہر اندھیروں میں کیسے گم ہوا بہت قریب سے دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جس عروس البلاد، معاشی حب میں کرکٹ کھیلی ہو، سینما گھروں اور کلبوں کا کلچر دیکھا ہو، موسیقی سے لے کر مشاعروں تک اور سیاست سے لیکر صحافت تک کی ہو وہ کراچی اس طرح ہم سے چھین لیا جائے گا کہ کچی آبادیوں کا دنیا کا سب سے بڑا شہر بن جائے گا کبھی سوچا نہ تھا۔ اب مجھے نہیں پتا 5 دسمبر سے 8 دسمبر تک آرٹس کو نسل میں ہونے والی 17 ویں عالمی اردو کانفرنس میں ’’جشن کراچی‘‘ کے عنوان سے ہم کس حد تک انصاف کر پائیںگے البتہ کانفرنس، جو خود ایک مضبوط روایت بن گئی ہے، میں اس موضوع کا انتخاب قابل تعریف ہے۔ ویسے بھی اب شہر میں ایک ہی تو ادارہ بچا ہے۔ شہروں کو نیچے سے اوپر جاتے ہوئے تو دیکھا ہے مگر جس تیزی سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر تنزلی کا شکار ہوا ہے ایسا کم ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ یہاں صحافت کرتے اب مجھے 42 سال ہو چکے ہیں اور یقین جانیں اُس میں سے کوئی 25 سال اس کو صرف ’’لہو لہان‘‘ ہی دیکھا ہے۔ 

آجکل ’’ڈی چوک‘‘ پر 26 نومبر کو کتنے لوگ مارے گئے۔ پی ٹی آئی اور قانون نافذ کرنے والے بحث کر رہے ہیں مگر اُن دنوں جب کراچی کی صبح کا آغاز تین لاشوں سے ہوتا تھا اور یہ تعداد شام تک 30 اور رات گئے تک 50 تک پہنچ جاتی تھی جو دوست بین الاقوامی میڈیا کیلئے کام کرتے تھے خاص طور پر نیوز ایجنسی کیلئے اُن کی مشکل یہ ہوتی تھی جو تعداد انہوں نے ایک گھنٹے پہلے دی ہوتی تھی اس میں منٹوں کے لحاظ سے اضافہ ہوتا رہتا تھا۔ اب کن واقعات کا ذکر کروں کہ اسپتالوں اور ایدھی کے مردہ خانوں میں جگہ کم پڑ جاتی تھی۔ آج یہ واحد شہر ہے جہاں ’’نا معلوم افراد‘‘ کا قبرستان بھی ہے اور نہ جانے کتنے افراد آج بھی ’’نامعلوم‘‘ یا ’’لاپتہ‘‘ ہیں۔ بچی ترنم عزیز سے لے کر معصوم سسٹرز (دو بہنیں) جنہیں اغوا کر کے قتل کیا گیا۔ بشریٰ زیدی سے لیکر سہراب گوٹھ، علی گڑھ، قصبہ کالونی، صدر بم دھماکہ ایک لمبی فہرست ہے۔ اپنی صحافتی زندگی میں ہزاروں لاشیں سڑکوں اور اسپتالوں میں دیکھیں بھی، رپورٹ بھی کیں۔ سرکٹی لاشوں سے لے کر بوری بند لاشوں تک۔

مگر یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا، گلیوں میں پھرا کرتے تھے دو چار دو انے، ہر شخص کا صد چاک لبادہ تو نہیں تھا۔ ہاں اسی شہر نے سیاست اور صحافت کو پہچان دی۔ یہ وہ وقت تھا جب صبح سویرے یہاں کے مکین ایم اے جناح روڈ کو دھوتے تھے۔ پھر کھلی اور کشادہ سڑکوں پر ٹرام، ڈبل ڈیکر، لمبے سائز کی بسیں اور سرکلر ریلوے آبادی کا بوجھ اُٹھانے کیلئے کافی تھی۔ انگریز گیا مگر ایک نظام چھوڑ گیا تھا۔ نکاسی کا بھی اور پینے کے صاف پانی کا بھی۔ تعلیم کا اعلیٰ معیار تھا۔ کھیلوں کے میدانوں کا ایک جال تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس شہر نے نامور کھلاڑی دیئے کرکٹ کو بھی، ہاکی اور اسکواش کو بھی۔ پہلی طلبہ تحریک بھی کتابوں اور فیسوں میں اضافے پر چلی جس کی قیادت ڈاکٹر سرور، ڈاکٹر ہارون اور ادیب الحسن رضوی جیسے طالب علم کر رہے تھے۔ صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی بنیاد بھی اسی شہر میں 2 اگست 1950 کو خالق دینا ہال میں ایک بڑے کنونشن میں رکھی گئی۔

پاکستان کو بنے دو سال ہوئے تھے مگر اُس وقت بھی اظہار رائے پر پابندی تھی اور صحافت آسان نہ تھی نہ ہی ٹریڈ یونین۔ مگر کراچی صحافت کی نرسری بن گیا۔ دو بڑے میڈیا گروپ جنگ اور ڈان کے ہیڈ کوارٹرز آج بھی یہیں ہیں مگر ایک وقت تھا جب یہاں شام کے اخبارات کا بھی ایک کلچر تھا جس میں کراچی کے بلدیاتی مسائل پر بڑی بھرپور اور تحقیقاتی رپورٹس شائع ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ ’’دی سن‘‘ اخبار انگریزی صحافت میں ایک نیا مزاج لے کر آیا تھا۔ مارننگ نیوز کا دفتر جہاں ہوتا تھا اُس کے سامنے ’’امن اخبار‘‘ جہاں اب بلند و بالا عمارت ہے۔ بمبئی ہوٹل میں کئی اخباروں کے بیورو ہوتے تھے بشمول بی بی سی، وہ بھی چند سال پہلے توڑ کر وہاں کئی منزلہ عمارت کی تعمیر ہو رہی ہے۔ کراچی پریس کلب بھی، اس شہر کی پہچان رہا ہے 1958ء سے جہاں ہر سال الیکشن ہوتے ہیں البتہ بہت سی تاریخی روایات ماند پڑتی جا رہی ہیں۔ پی ایف یوجے کیلئے کلب کی بنیاد رکھی ایک جمہوری عمل سے۔ 

آمرانہ ادوار میں یہی کلب مزاحمت کی پہچان بن گیا صحافی تحریکیں ہوں یا سیاسی۔ ایک وقت تھا جب جوش، فیض اور جالب جیسے نامور شاعروں کو ’’تاحیات ممبر شپ‘‘ اُس وقت دی گئی جب ریاست نے اُن پر پابندی لگائی اب شاید ہم غور نہیں کرتے جب کسی کو ’’تاحیات‘‘ ممبر بنا رہے ہوتے ہیں کہ اُس کی معاشرے کیلئے کیا خدمات ہیں۔ سیاست میں یہ شہر حزب اختلاف کا شہر بن گیا جب اس نے ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کو ووٹ دیا، اُس کی ایسی سزا دی گئی کہ آج تک دی جا رہی ہے کبھی لسانی انداز میں تو کبھی فرقہ واریت میں۔ اُس کے آنے والے ہر حکمران اور نوکر شاہی نے صرف اور صرف اس عروس البلاد کو لوٹا۔ آج اگر سول سروس کے ریٹائر ہونے والے افسران اس کانفرنس میں کوئی بیانیہ پیش کرتے ہیں تو اُس کی ابتدا اُن کے اعتراف ندامت سے ہونی چاہئے کہ کہیں نہ کہیں انہوں نے اپنا رول ادا نہیں کیا۔ آخر اربوں روپے ’’منصوبوں‘‘ اور ’’فائلوں‘‘ کی نذر ہوئے تو اِن میں کچھ بیورو کریٹ کا ہاتھ رہا ہو گا اور تھا۔ 

کئی اچھے افسران بھی گزرے مگر وہ سائیڈ لائن کر دیئے گئے اور پھر وہ ریٹائر ہو گئے۔ آخر میں ان بڑے بڑے منصوبوں کا حساب ان سے کیوں نہ ہو، چاہے وہ کراچی ماس ٹرانزٹ ہو، لیاری ایکسپریس وے ہو، سرکلر ریلوے ہو، کے۔ 4 ہو یا سیف سٹی پروجیکٹ یا سالوں سے ٹوٹی ہوئی یونیورسٹی روڈ۔ اس شہر میں ’’جرم و سیاست‘‘ کا ایسا ملاپ قائم ہوا کہ ایک بار خود ایک وزیر اعلیٰ کی زبان پر یہ بات آ ہی گئی کہ فلاں ڈی آئی جی کا تعلق ’’انڈر ورلڈ‘‘ سے ہے۔ آج کا کراچی انہی جیسے افسران، سیاستدانوں اور خاص طور پر جنرل ضیاء کے 11 سال کی پالیسیوں اور منفی سیاست کا نتیجہ ہے خاص طور پر ڈرگ اور اسلحہ کا کلچر۔ ورنہ تو یہ شہر وفاقی دارالحکومت بھی رہا اور آج سندھ کا دار الحکومت بھی ہے تو پھر آخر اس کا کوئی وارث نہ بنا ایک ’’میٹرو پولیٹن سٹی‘‘ کیوں نہ بن سکا۔ بڑے شہروں میں لوگ دوسرے شہروں سے آتے ہیں روزگار کی تلاش میں بھی اور تعلیم حاصل کرنے بھی مگر اُس کیلئے ایک مربوط منصوبہ بندی کی جاتی ہے آباد کاری کی جاتی ہے یہ نہیں کہ جنرل عباسی صاحب ایک آرڈیننس جاری کریں ’’کچی آبادیاں‘‘ بنانے کیلئے اور پورا شہر ہی کچی آبادی بن جائے۔

سوچتا ہوں ’’جشن کراچی‘‘ کیسے منائوں۔ کراچی کو اب یاد ہی کیا جا سکتا ہے۔ ’’زندہ‘‘ کرنے میں بڑی محنت درکار ہے جس کیلئے ہمیں اس کا وارث بننا پڑے گا۔ بہت نفرت کی سیاست کر لی، میرٹ کا قتل کر کے اس شہر اور صوبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا۔ اب کل کا کراچی ایک ’’خوبصورت خواب‘‘ ہے۔ آج کا کراچی ایک تلخ حقیقت اور مستقبل کا عروس البلاد اِک اُمید۔ آرٹس کونسل مبارک باد کی مستحق ہے کہ اس نے نہ صرف پرانے شہر کو واپس لانے کی کوشش کی ہے بلکہ ایک روشن خیال اور ترقی پسند پاکستان کو یکجا کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔

مظہر عباس

بشکریہ روزنامہ جنگ

کراچی کی طاقتور تجاوزات مافیا

روزنامہ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں تجاوزات کی بھرمار نے شہریوں کو فٹ پاتھوں پر چلنے سے محروم کر دیا ہے اور طاقتور تجاوزات مافیا نے فٹ پاتھ بھی فروخت کرنا شروع کر دی ہیں جس کے بعد سڑکوں کے بعد فٹ پاتھ بھی شہریوں کے لیے شجر ممنوعہ بنا دی گئی ہیں اور شہریوں اور راہگیروں سے فٹ پاتھوں پر چلنے کا بھی حق چھین لیا گیا ہے اور شہر میں سڑکوں کے بعد بلدیہ عظمیٰ کراچی کا محکمہ انسداد تجاوزات ہی نہیں بلکہ علاقوں کے اسسٹنٹ کمشنروں ، پولیس تھانوں کی موبائلوں اور ٹریفک پولیس کی موجودگی میں تجاوزات مسلسل بڑھ رہی ہیں جب کہ وزیر اعلیٰ سندھ، کمشنر کراچی اور میئر بلدیہ عظمیٰ کی ہدایات اور دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ کراچی کی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات کی پہلے ہی بھرمار تھی اور چنگچی رکشے والوں کی وجہ سے سڑکوں پر چلنا تو پہلے ہی ناممکن تھا اور راہگیروں کے چلنے کے لیے جو فٹ پاتھ رہ گئی تھیں ان کو پہلے وہاں کے دکانداروں نے اپنا اضافی سامان رکھنا شروع کیا ہوا تھا اور جو جگہ بچ جاتی تھی وہاں پتھارے لگوا کر ہفتہ وار رقم وصول کر رہے تھے اور فٹ پاتھوں کے کنارے بھی پتھارے قائم ہونے کے بعد راہگیروں کے چلنے کے لیے بہ مشکل ایک ڈیڑھ فٹ جگہ چھوڑ دی جاتی ہے۔

اہم شاہراہوں پر فٹ پاتھوں پر موٹرسائیکلیں کھڑی کی جاتی ہیں یا دکانداروں کی ذاتی گاڑیاں جس کے بعد پتھارے لگائے جاتے ہیں اور آدھی سڑک پر تجاوزات قائم ہونے کے بعد جو جگہ بچتی ہے وہاں چنگچی والوں نے اپنے رکشے کھڑے کر کے شاہراہوں کو مزید تنگ کر رکھا ہے اور بسوں اور گاڑیوں کی تعداد اور موٹر سائیکلوں کی وجہ سے بڑھ جانے سے شاہراہوں پر ٹریفک جام رہنا معمول بنا ہوا ہے۔ شاہراہوں پر کھانے پینے یا جوس کی جو دکانیں ہیں انھوں نے گاہکوں کے لیے اپنی دکانوں میں کوئی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے کرسیاں فٹ پاتھوں پر رکھی ہوئی ہیں۔ ان دکانداروں نے اپنا فروخت ہونے والا سامان دکانوں سے باہر نکال کر فٹ پاتھوں پر قبضہ کیا ہوا ہے اور درمیان میں کچھ جگہ چھوڑ کر کرسیاں گاہکوں کے بیٹھنے کے لیے رکھی ہوئی ہیں۔ رات کو دیگر دکانیں بند ہونے کے بعد وہاں بھی باربی کیو، دہی بڑے فروخت کرنے والے قبضہ کر لیتے ہیں جس کے بعد فٹ پاتھوں پر چلنے کی بھی جگہ باقی نہیں رہتی۔ کھانے کے ہوٹلوں نے فٹ پاتھوں پر ہی نہیں بلکہ سروس روڈ، سڑکوں کے درمیان کی گرین بیلٹوں پر بھی قبضہ کر رکھا ہے اور سروس روڈ اور سامنے کی سڑکوں پر کھانا کھانے آنے والوں کی گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں جس سے سڑکیں مزید تنگ ہو جاتی ہیں۔

رکشوں پر آنے والے لوگوں کے لیے سروس روڈ اور سڑکوں پر رکشے بھی کھڑے رہتے ہیں اور شہر بھر میں رش والے علاقوں میں چنگچی رکشے والوں نے اپنے غیر قانونی اسٹاپ بنا رکھے ہیں جس سے راہگیروں کے لیے سڑکوں پر چلنا ناممکن ہو گیا ہے۔ ریڑھیوں پر مال فروخت کرنے والوں نے بھی سڑکوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ شہر کی اندرونی مارکیٹوں میں پھلوں اور خصوصاً سبزی فروشوں نے تو تجاوزات قائم کرنے کی حد ہی کی ہوئی ہے۔ تجاوزات کے انسداد کے لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی کا ایک محکمہ ڈائریکٹر کے ماتحت مقرر ہے اور کے ڈی اے کا بھی اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ ہے جب کہ شہر کی 26 ٹاؤنز میونسپل کارپوریشنوں میں بھی تجاوزات کا عملہ مقرر ہے اور انھیں سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں ادا کیے جارہے ہیں، لیکن تجاوزات ختم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہیں ۔ وزیر اعلیٰ، کمشنر اور میئر تجاوزات کے خاتمے کے دعوے اکثر کرتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔ شہر کی تجاوزات کمائی کا ذریعہ ہیں جہاں سے متعلقہ عملے کو مفت کا کھانا، سبزی اور فروٹ مفت ملتا ہے جس کی وجہ سے تجاوزات کے خلاف مصنوعی مہم کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔

محمد سعید آرائیں

بشکریہ ایکسپریس نیوز
 

غیرملکی قرض، مال مفت دل بے رحم

موجودہ حکومت سے ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ IMF سے قرضہ منظورہوتے ہی وہ بے دریغ اپنے اخراجات بڑھا دے گی۔ وہ صبح وشام عوام سے ہمدردی اور انھیں ریلیف بہم پہنچانے کے دعوے توبہت کرتی رہتی ہے لیکن عملاً اس نے انھیں کوئی ایسا بڑا ریلیف نہیں پہنچایا ہے جیسا اس نے اپنے وزرا اور ارکان پارلیمنٹ کو صرف ایک جھٹکے میں پہنچا دیا ہے۔ ہمارے وزیر خزانہ ہر بار عوام کو یہ تسلیاں دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ آپ اگلے چند ماہ میں حکومتی اخراجات کم ہوتے دیکھیں گے۔ اُن کے مطابق حکومت جسے اپنے غریب عوام کا بہت خیال ہے وہ بہت جلد سرکاری اخراجات کم کرے گی، مگر ہم نے پچھلے چند ماہ میں اخراجات کم ہوتے تو کیا بلکہ بے دریغ بڑھتے ہوئے ہی دیکھے ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے نام نہاد مسیحا عوام سے تو ہر وقت قربانی دینے کی درخواستیں کرتے ہیں لیکن خود وہ کسی بھی قسم کی قربانی دینے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ سارے کے سارے خود ساختہ عوامی غم خوار اللہ کے فضل سے کسی غریب طبقہ سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔

اِن میں بہت سے بڑے بڑے جاگیردار اور سرمایہ دار لوگ ہیں۔ پشت درپشت اِن کی جاگیریں ان کی اولادوں میں بٹتی رہی ہیں۔ اُن کی زمینوں کا ہی تعین کیا جائے تو تقریباً آدھا پاکستان انھی لوگوں کی ملکیت ہے۔ اِنکے گھروں میں وہ فاقے نہیں ہو رہے جن سے ہمارے بیشتر عوام دوچار ہیں۔ ملک میں جب بھی کوئی بحران آتا ہے تو یہ سب لوگ ترک وطن کر کے دیار غیر میں جا بستے ہیں۔ جن لوگوں سے یہ ووٹ لے کر پارلیمنٹ کے منتخب ارکان بنتے ہیں انھیں ہی برے وقت میں تنہا چھوڑ جاتے ہیں۔ وطن عزیز کے معرض وجود میں آنے کے دن سے لے کر آج تک اس ملک میں جب جب کوئی بحران آیا ہے قربانیاں صرف غریب عوام نے ہی دی ہیں۔مالی مشکلات پیدا کرنے کے اصل ذمے دار یہی لوگ ہیں جب کہ قربانیاں عوام سے مانگی جاتی ہیں۔ ٹیکسوں کی بھرمار اور اشیائے خورونوش کی گرانی عوام کو برداشت کرنا پڑتی ہے۔ IMF کی کڑی شرطوں کا سارا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا ہے اور عالمی مالی ادارے جب کوئی قرضہ منظور کر دیتے ہیں تو شاہانہ خرچ اِنہی خیر خواہوں کے شروع ہو جاتے ہیں۔ 

ہماری سمجھ میں نہیں آرہا کہ ارکان پارلیمنٹ اور حکومتی اہل کاروں کی تنخواہوں میں یکمشت اتنا بڑا اضافہ کرنے کی بھلا ایسی کیا بڑی ضرورت آن پڑی تھی کہ پچاس فیصد نہیں سو فیصد نہیں چار سو سے لے کر نو سو فیصدی تک ایک ہی چھلانگ میں بڑھا دی گئی ہیں۔ جب کہ ان بھاری تنخواہوں کے علاوہ دیگر مراعات اور بھی دی جارہی ہیں۔ ان کے گھر کے اخراجات بھی حکومت کے خزانوں سے پورے کیے جاتے ہیں۔ بجلی، گیس اور ٹیلیفون تک کے بلوں کی ادائیگی عوام کے پیسوں سے کی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں حاضری لگانے کے الاؤنس بھی اس کے علاوہ ملتے ہیں۔ پارلیمنٹ کی کیفے ٹیریا میں انھیں لنچ اور ڈنر بھی بہت ہی ارزاں داموں میں ملا کرتے ہیں۔ اِنکے سفری اخراجات بھی عوام کے ٹیکسوں سے پورے کیے جاتے ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ انھیں اتنی بڑی بڑی تنخواہوں سے نوازا گیا ہے۔ IMF نے ابھی صرف ایک ملین ڈالر ہی دیے ہیں اور ہمارے مسیحاؤں نے فوراً ہی اس میں سے اپنا حصہ سمیٹ لیا ہے، مگر جب یہ قرض ادا کرنے کی بات ہو گی تو عوام سے وصول کیا جائے گا۔

حکومت نے تو یہ کام کر کے اپنے ساتھیوں کی دلجوئی کر دی ہے مگر ہمیں یہ توقع نہ تھی کہ اپوزیشن کے ارکان اس کی اس حرکت پر خاموش رہیںگے۔ پاکستان تحریک انصاف جو ہر حکومتی کام پر زبردست تنقید کرتی دکھائی دیتی ہے اس معاملے میں مکمل خاموشی طاری کیے ہوئے ہے۔ اس بہتی گنگا میں اس نے بھی اشنان کرنے میں بڑی راحت محسوس کی ہے اور مال غنیمت سمجھ کر جو آتا ہے ہنسی خوشی قبول کر لیا ہے۔ یہاں اسے اپنے غریب عوام کا ذرہ بھر بھی خیال نہیں آیا۔ کوئی منحنی سی آواز بھی پارلیمنٹ میں بلند نہیں کی۔ غریب عوام کو ابھی تک اس حکومت سے کوئی بڑا ریلیف نہیں ملا ہے۔ مہنگائی کی کمی کے جو دعوے کیے جارہے ہیں تو زمینی حقائق کے بالکل برخلاف ہیں، کسی شئے کی قیمت کم نہیں ہوئی ہے۔ جس آٹے کی قیمت کم کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ ایک بار پھر پرانی قیمتوں کو پہنچ چکا ہے۔ عوام کی سب بڑی مشکل بجلی اورگیس کے بلز ہیں۔اس مد میں انھیں ابھی تک کوئی ریلیف نہیں ملا ہے۔ 

سردیوں میں صرف تین ماہ کے لیے جو رعایتی سیل حکومت نے لگائی ہے۔ وہ بھی حیران کن ہے کہ جتنی زیادہ بجلی خرچ کرو گے اتنا زیادہ ریلیف ملے گا۔ یعنی گزشتہ برس اِن تین سال میں عوام نے جتنی بجلی خرچ کی ہے اس سے زیادہ اگر وہ اس سال اِن تین مہینوں میں خرچ کریں گے تو حکومت اس اضافی بجلی پر کچھ ریلیف فراہم کریگی۔ سبحان اللہ سردیوں میں عام عوام ویسے ہی کم بجلی خرچ کرتے ہیں انھیں زیادہ بجلی خرچ کرنے پر اکسایا جا رہا ہے۔ یہ ریلیف بھی انھی امیروں کو ملے گا جو سردیوں میں الیکٹرک ہیٹر چلاتے ہیں۔ غریب عوام کو کچھ نہیں ملے گا۔ اس نام نہاد ریلیف کی تشہیراخبارات میں بڑے بڑے اشتہاروں کے ذریعے کی جارہی ہے جنھیں دیکھ کر عوام قطعاً خوش نہیں ہو رہے بلکہ نالاں اور سیخ پا ہو رہے ہیں ۔ خدارا عقل کے ناخن لیں اورصحیح معنوں میں عوام کو ریلیف بہم پہنچانے کی کوشش کریں۔ غیرملکی قرضوں سے انھیں نجات دیں اور کچھ دنوں کے لیے سکھ کا سانس لینے دیں۔ ابھی معیشت پوری طرح بحال بھی نہیں ہوئی ہے اور قرض کو مال مفت سمجھ کر اپنے ہی لوگوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اسے اس بے رحمی سے خرچ کیا جارہا ہے جیسے پھر کبھی موقع نہیں ملے گا۔ کسی بھی رکن پارلیمنٹ کا سویا ہوا ضمیراس شاہانہ اخراجات پر نہیں جاگا۔

IMF جو حکومتی ہر اقدام پر کڑی نظر رکھتی ہے وہ بھی نجانے کیوں اس غیر ضروری فراخدلی پر خاموش ہے۔ وہ دراصل چاہتی بھی یہی ہے کہ یہ ملک اور اس کے عوام اسی طرح قرض لینے کے لیے ہمیشہ اس کے محتاج بنے رہیں اور وہ چند ملین قرض دینے کے بہانے ان پر پابندیاں لگاتی رہے۔ وہ ہرگز نہیں چاہتی کہ ہم اس کے چنگل سے آزاد ہو کر خود مختار اور خود کفیل ہو پائیں۔ اس کی ہشت پالی گرفت ہمیں کبھی بھی اپنے شکنجہ سے نکلنے نہیں دے گی۔ یہ سی پیک اور معدنیات کے بڑے بڑے ذخائر سب فریب نظر ہیں۔ ہم کبھی بھی اِن سے فیضیاب نہیں ہو پائیںگے۔ ہمیں برباد کرنے کے لیے تو اُن کے پاس بہت سے آپشن ہیں۔ کبھی سیاسی افراتفری اور کبھی منتخب حکومت کی اچانک تبدیلی۔ کبھی ایران کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر پابندیاں تو کبھی سی پیک رول بیک کرنے کی کوششیں۔ اسی طرح اور ممالک نے بھی ایسے ہی کئی MOU سائن کیے ہیں لیکن وہ بھی صرف کاغذوں پر موجود ہیں ،عملاً کوئی قدم بھی ابھی نہیں بڑھایا ہے۔ حالات جب اتنے شکستہ اور برے ہوں تو ہمیں اپنا ہاتھ بھی ہولہ رکھنا چاہیے۔ پڑوسی ملک بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر ہم سے کہیں زیادہ ہیں لیکن وہاں کے پارلیمنٹرین کی تنخواہیں اور مراعات ہم سے بہت ہی کم ہیں۔ یہی سوچ کر ہمارے حکمرانوں کو احساس کرنا چاہیے کہ ہم کیونکر اتنے شاہانہ خرچ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر منصور نورانی

بشکریہ ایکسپریس نیوز