یہ چھ نومبر 2005 کا واقعہ ہے۔ ایک کار، جس میں ایک خاتون اور دو بچے سفر کر رہے تھے، کراچی میں ابوالحسن اصفہانی روڈ پر رات کے اندھیرے میں کھلے نالے میں جا گری کیونکہ سڑک پر کھدائی کے نتیجے میں جمع مٹی کے بڑے سے ڈھیر کے سبب ڈرائیور نالے کی چوڑائی کا درست اندازہ نہیں لگا پایا۔ ڈرائیور اور خاتون زخمی ہوئے مگر خاتون کی 13 سالہ بیٹی عکسِ بتول اور 10 سالہ بیٹا شایان ڈوبتی گاڑی سے بروقت نہ نکالے جا سکے اور ہلاک ہو گئے۔ خاتون کا نام شہلا رضا تھا جو بعد میں سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر رہیں اور اب پیپلز پارٹی کی ایم این اے ہیں۔ جب یہ حادثہ ہوا تو صوبے کے وزیرِ اعلی ارباب غلام رحیم اور مئیر کراچی ایم کیو ایم کے مصطفیٰ کمال تھے جو اب وفاقی وزیر برائے ہیلتھ سروسز ہیں۔ محترمہ شہلا رضا نے اپنے بچوں کی موت کا ذمہ دار بلدیہ کراچی اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ڈھائی کروڑ روپے ہرجانے کا دعوی دائر کیا۔ بلدیہ کراچی نے اپنے طور پر بھی انکوائری کروائی۔ مقدمہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل عرب کی عدالت میں پیش ہوا۔ پھر کیا ہوا؟ کسی کو معلوم ہو تو اس ناچیز کو بھی آگاہ کر دے۔
کراچی کی بھلائی نہ جانے والی باتیں
ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بجائے ہم انیس سو سینتالیس کی چودہ اگست کے بعد کراچی میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات چیت جاری رکھتے ہیں۔ پچھلی مرتبہ ہم نے کراچی کا قصہ آدھے میں چھوڑ دیا تھا۔ سلسلہ وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے منقطع ہوا تھا۔ کیماڑی کو جدید بندرگاہ بنانے کے جنون نے انگریز کو اعلیٰ شہر کراچی کی بنیاد ڈالنے پر آمادہ کیا تھا۔ اگست انیس سو سینتالیس کو جب انگریز نے کوچ کیا تھا، وہ اپنے پیچھے لندن، بمبئی اور سورت کی ٹکر کا شہر کراچی چھوڑ گئے تھے۔ کیماڑی، میری ویدر ٹاور اور بولٹن مارکیٹ سے بندر روڈ ایکسٹینشن تک جانے والے روڈ کو انگریز نے نام دیا تھا بندر روڈ، کیماڑی بندر سے شروع ہونے والا روڈ بہت بڑا، چوڑا چکلا ہوتا تھا۔ روڈ کے دونوں اطراف وسیع و عریض پیدل چلنے والوں کیلئے فٹ پاتھ بنے ہوئے تھے۔ فٹ پاتھ پر بیس پچیس فٹ کے فاصلے پر گھنے درخت لگے ہوئے تھے، نیم، پیپل، برگد اور لال بادام کے درخت۔ درختوں کے نیچے لوہے اور لکڑی سے بنے ہوئے خوب صورت بینچ مستقل طور پر فٹ پاتھ کے ساتھ پیوست ہوتے تھے۔ بچے، خواتین اور عمر رسیدہ لوگ بنچوں پر بیٹھے ہوئے اور سستاتے ہوئے دیکھے جاسکتے تھے۔ سنا تھا کہ بینچ انگلستان کے شہر برمنگھم سے بن کر آئے تھے۔
چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے بعد کراچی میں سب سے پہلے دکھائی دینے والی تبدیلیوں میں سرفرست تھیں بندر روڈ سے منسلک فٹ پاتھ سے بینچوں کا غائب ہو جانا، گم کرنے والوں نے اکھاڑ کر بینچ غائب کر دیے تھے۔ چودہ اگست انیس سو سینتالیس سے پہلے کراچی کے تمام روڈ راستوں پر کھلے عام گائیں چلتی، پھرتی اور مزے سے بیٹھی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔ لفظ گائیں جمع ہے گائے کی۔ کراچی کے ہم پرانے باسی ایک گائے کو گائے اور ایک سے زیادہ گائے کو گائیں اور کچھ لوگ گائیاں کہتے تھے۔ گائے پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ پورے شہر کے گلی، کوچوں، سڑکوں اور روڈ راستوں پر دندناتی پھرتی تھیں۔ اگر بیچ سڑک بیٹھ جائیں تو ٹریفک کو رخ بدلنا پڑتا تھا مگر گائے کو اپنی جگہ دل جمعی سے بیٹھنے دیا جاتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے بعد کراچی کی سڑکوں سے گائے غائب ہونے لگیں۔ کچھ عرصہ بعد ہم کراچی والوں نے پھر کبھی کراچی کی سڑکوں پر گائے کو دندناتے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہ بھی ایک بہت بڑی تبدیلی تھی جو چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے بعد کراچی میں ہم نے دیکھی۔ بندر روڈ کے بیچوں بیچ ٹرام چلا کرتی تھی۔
کراچی کے پورے شہر میں ٹرام کی پٹریاں بچھی ہوئی تھیں۔ بولٹن مارکیٹ، کیماڑی، نیپئر روڈ، چاکیواڑہ، کراچی کینٹ اسٹیشن، صدر، گاندھی گارڈن وغیرہ ٹرام کی وجہ سے آپس میں ملے ہوئے تھے۔ آپ ایک آنے میں پورے شہر کا چکر لگا کر آسکتے تھے۔ اس قدر صاف ستھری اور محفوظ سواری کا آپ تصور نہیں کرسکتے۔ پورے یورپ کے شہروں میں ٹرام کا رواج تھا اور اب بھی ہے۔ پچیس تیس برس ٹرام کراچی میں چلتی رہی مگر کبھی ایک اندوہناک حادثے کی خبر سنائی نہیں دی مگر تبدیلی پسند بابوئوں نے سڑک کے بیچوں بیچ چلنے کی وجہ سے ٹرام کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ کسی نے مخالفت نہیں کی۔ کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ پورے شہر سے ٹرام کی پٹریاں اکھاڑ کر ردی میں بیچ دی گئیں اور چالیس پچاس ٹراموں کے کل پرزے نکال کر بیچے گئے۔ اس طرح کراچی کا شہر اپنی ایک لاجواب پہچان سے محروم کر دیا گیا۔ یہ بھی ایک بہت بڑی تبدیلی تھی، بری سہی۔ کراچی کے تمام روڈ راستوں پر جانوروں کے پانی پینے کیلئے حوض بنے ہوئے تھے۔ کراچی کی مقبول عام سواری دو پہیوں والے تانگے اور چار پہیوں والی وکٹوریا گاڑیاں ہوتی تھیں۔ گھوڑوں کے علاوہ ہر طرح کے جانور حوض سے پانی پیتے تھے۔
اکثر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ پانی پینے اور ڈبکیاں لگانے حوض پر اتر آتے تھے ۔ تبدیلی پسند یاروں نے پانی کے حوض اس قدر بے دردی سے اکھاڑے کہ لاکھ تلاش کرنے کے باوجود آپ کو کراچی کے کسی کونے کھدرے میں پانی پینے کے حوض کا سراغ تک نہیں ملے گا۔ تب بہت کچھ کھو دیا تھا کراچی نے۔ چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے بعد پہلی تبدیلی حیران کن تھی۔ کراچی کے اکثر بڑے روڈ راستے تھوڑے سے خمدار Curvature ہوتے تھے۔ چھ، سات مہینے کراچی ابر آلود ہوتا تھا اور اکثر بوندا باندی ہوتی رہتی تھی، کیا مجال کہ پانی کے ایک قطرے کیلئے سڑک پر ٹھہرنے کی جگہ ہو۔ راستے یورپ کے راستوں کی طرح کرویچر ہوتے تھے۔ ہلکی گولائی ہوتی تھی، راستوں کی بناوٹ میں۔ گرنے کے فوراً بعد پانی راستے کی دونوں جانب ہو جاتا تھا۔ راستے کی دونوں جانب فٹ پاتھ کیساتھ بڑی جالی والے بڑے گٹر ہوتے تھے۔ سنا تھا کہ لوہے کے ڈھکن بھی برمنگھم سے بن کر آئے تھے۔ چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے بعد سب سے پہلے سڑکوں سے گٹروں پر رکھے ہوئے لوہے کے ڈھکن غائب ہونا شروع ہو گئے تھے۔
امر جلیل
بشکریہ روزنامہ جنگ
آؤ ’’کراچی‘‘ کو یاد کریں
میں نے کراچی کی ’’روشنی‘‘ بھی دیکھی ہے اور ’’اندھیرے‘‘ بھی۔ یہ جیتا جاگتا شہر اندھیروں میں کیسے گم ہوا بہت قریب سے دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جس عروس البلاد، معاشی حب میں کرکٹ کھیلی ہو، سینما گھروں اور کلبوں کا کلچر دیکھا ہو، موسیقی سے لے کر مشاعروں تک اور سیاست سے لیکر صحافت تک کی ہو وہ کراچی اس طرح ہم سے چھین لیا جائے گا کہ کچی آبادیوں کا دنیا کا سب سے بڑا شہر بن جائے گا کبھی سوچا نہ تھا۔ اب مجھے نہیں پتا 5 دسمبر سے 8 دسمبر تک آرٹس کو نسل میں ہونے والی 17 ویں عالمی اردو کانفرنس میں ’’جشن کراچی‘‘ کے عنوان سے ہم کس حد تک انصاف کر پائیںگے البتہ کانفرنس، جو خود ایک مضبوط روایت بن گئی ہے، میں اس موضوع کا انتخاب قابل تعریف ہے۔ ویسے بھی اب شہر میں ایک ہی تو ادارہ بچا ہے۔ شہروں کو نیچے سے اوپر جاتے ہوئے تو دیکھا ہے مگر جس تیزی سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر تنزلی کا شکار ہوا ہے ایسا کم ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ یہاں صحافت کرتے اب مجھے 42 سال ہو چکے ہیں اور یقین جانیں اُس میں سے کوئی 25 سال اس کو صرف ’’لہو لہان‘‘ ہی دیکھا ہے۔
آجکل ’’ڈی چوک‘‘ پر 26 نومبر کو کتنے لوگ مارے گئے۔ پی ٹی آئی اور قانون نافذ کرنے والے بحث کر رہے ہیں مگر اُن دنوں جب کراچی کی صبح کا آغاز تین لاشوں سے ہوتا تھا اور یہ تعداد شام تک 30 اور رات گئے تک 50 تک پہنچ جاتی تھی جو دوست بین الاقوامی میڈیا کیلئے کام کرتے تھے خاص طور پر نیوز ایجنسی کیلئے اُن کی مشکل یہ ہوتی تھی جو تعداد انہوں نے ایک گھنٹے پہلے دی ہوتی تھی اس میں منٹوں کے لحاظ سے اضافہ ہوتا رہتا تھا۔ اب کن واقعات کا ذکر کروں کہ اسپتالوں اور ایدھی کے مردہ خانوں میں جگہ کم پڑ جاتی تھی۔ آج یہ واحد شہر ہے جہاں ’’نا معلوم افراد‘‘ کا قبرستان بھی ہے اور نہ جانے کتنے افراد آج بھی ’’نامعلوم‘‘ یا ’’لاپتہ‘‘ ہیں۔ بچی ترنم عزیز سے لے کر معصوم سسٹرز (دو بہنیں) جنہیں اغوا کر کے قتل کیا گیا۔ بشریٰ زیدی سے لیکر سہراب گوٹھ، علی گڑھ، قصبہ کالونی، صدر بم دھماکہ ایک لمبی فہرست ہے۔ اپنی صحافتی زندگی میں ہزاروں لاشیں سڑکوں اور اسپتالوں میں دیکھیں بھی، رپورٹ بھی کیں۔ سرکٹی لاشوں سے لے کر بوری بند لاشوں تک۔
مگر یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا، گلیوں میں پھرا کرتے تھے دو چار دو انے، ہر شخص کا صد چاک لبادہ تو نہیں تھا۔ ہاں اسی شہر نے سیاست اور صحافت کو پہچان دی۔ یہ وہ وقت تھا جب صبح سویرے یہاں کے مکین ایم اے جناح روڈ کو دھوتے تھے۔ پھر کھلی اور کشادہ سڑکوں پر ٹرام، ڈبل ڈیکر، لمبے سائز کی بسیں اور سرکلر ریلوے آبادی کا بوجھ اُٹھانے کیلئے کافی تھی۔ انگریز گیا مگر ایک نظام چھوڑ گیا تھا۔ نکاسی کا بھی اور پینے کے صاف پانی کا بھی۔ تعلیم کا اعلیٰ معیار تھا۔ کھیلوں کے میدانوں کا ایک جال تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس شہر نے نامور کھلاڑی دیئے کرکٹ کو بھی، ہاکی اور اسکواش کو بھی۔ پہلی طلبہ تحریک بھی کتابوں اور فیسوں میں اضافے پر چلی جس کی قیادت ڈاکٹر سرور، ڈاکٹر ہارون اور ادیب الحسن رضوی جیسے طالب علم کر رہے تھے۔ صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی بنیاد بھی اسی شہر میں 2 اگست 1950 کو خالق دینا ہال میں ایک بڑے کنونشن میں رکھی گئی۔
پاکستان کو بنے دو سال ہوئے تھے مگر اُس وقت بھی اظہار رائے پر پابندی تھی اور صحافت آسان نہ تھی نہ ہی ٹریڈ یونین۔ مگر کراچی صحافت کی نرسری بن گیا۔ دو بڑے میڈیا گروپ جنگ اور ڈان کے ہیڈ کوارٹرز آج بھی یہیں ہیں مگر ایک وقت تھا جب یہاں شام کے اخبارات کا بھی ایک کلچر تھا جس میں کراچی کے بلدیاتی مسائل پر بڑی بھرپور اور تحقیقاتی رپورٹس شائع ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ ’’دی سن‘‘ اخبار انگریزی صحافت میں ایک نیا مزاج لے کر آیا تھا۔ مارننگ نیوز کا دفتر جہاں ہوتا تھا اُس کے سامنے ’’امن اخبار‘‘ جہاں اب بلند و بالا عمارت ہے۔ بمبئی ہوٹل میں کئی اخباروں کے بیورو ہوتے تھے بشمول بی بی سی، وہ بھی چند سال پہلے توڑ کر وہاں کئی منزلہ عمارت کی تعمیر ہو رہی ہے۔ کراچی پریس کلب بھی، اس شہر کی پہچان رہا ہے 1958ء سے جہاں ہر سال الیکشن ہوتے ہیں البتہ بہت سی تاریخی روایات ماند پڑتی جا رہی ہیں۔ پی ایف یوجے کیلئے کلب کی بنیاد رکھی ایک جمہوری عمل سے۔
آمرانہ ادوار میں یہی کلب مزاحمت کی پہچان بن گیا صحافی تحریکیں ہوں یا سیاسی۔ ایک وقت تھا جب جوش، فیض اور جالب جیسے نامور شاعروں کو ’’تاحیات ممبر شپ‘‘ اُس وقت دی گئی جب ریاست نے اُن پر پابندی لگائی اب شاید ہم غور نہیں کرتے جب کسی کو ’’تاحیات‘‘ ممبر بنا رہے ہوتے ہیں کہ اُس کی معاشرے کیلئے کیا خدمات ہیں۔ سیاست میں یہ شہر حزب اختلاف کا شہر بن گیا جب اس نے ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کو ووٹ دیا، اُس کی ایسی سزا دی گئی کہ آج تک دی جا رہی ہے کبھی لسانی انداز میں تو کبھی فرقہ واریت میں۔ اُس کے آنے والے ہر حکمران اور نوکر شاہی نے صرف اور صرف اس عروس البلاد کو لوٹا۔ آج اگر سول سروس کے ریٹائر ہونے والے افسران اس کانفرنس میں کوئی بیانیہ پیش کرتے ہیں تو اُس کی ابتدا اُن کے اعتراف ندامت سے ہونی چاہئے کہ کہیں نہ کہیں انہوں نے اپنا رول ادا نہیں کیا۔ آخر اربوں روپے ’’منصوبوں‘‘ اور ’’فائلوں‘‘ کی نذر ہوئے تو اِن میں کچھ بیورو کریٹ کا ہاتھ رہا ہو گا اور تھا۔
کئی اچھے افسران بھی گزرے مگر وہ سائیڈ لائن کر دیئے گئے اور پھر وہ ریٹائر ہو گئے۔ آخر میں ان بڑے بڑے منصوبوں کا حساب ان سے کیوں نہ ہو، چاہے وہ کراچی ماس ٹرانزٹ ہو، لیاری ایکسپریس وے ہو، سرکلر ریلوے ہو، کے۔ 4 ہو یا سیف سٹی پروجیکٹ یا سالوں سے ٹوٹی ہوئی یونیورسٹی روڈ۔ اس شہر میں ’’جرم و سیاست‘‘ کا ایسا ملاپ قائم ہوا کہ ایک بار خود ایک وزیر اعلیٰ کی زبان پر یہ بات آ ہی گئی کہ فلاں ڈی آئی جی کا تعلق ’’انڈر ورلڈ‘‘ سے ہے۔ آج کا کراچی انہی جیسے افسران، سیاستدانوں اور خاص طور پر جنرل ضیاء کے 11 سال کی پالیسیوں اور منفی سیاست کا نتیجہ ہے خاص طور پر ڈرگ اور اسلحہ کا کلچر۔ ورنہ تو یہ شہر وفاقی دارالحکومت بھی رہا اور آج سندھ کا دار الحکومت بھی ہے تو پھر آخر اس کا کوئی وارث نہ بنا ایک ’’میٹرو پولیٹن سٹی‘‘ کیوں نہ بن سکا۔ بڑے شہروں میں لوگ دوسرے شہروں سے آتے ہیں روزگار کی تلاش میں بھی اور تعلیم حاصل کرنے بھی مگر اُس کیلئے ایک مربوط منصوبہ بندی کی جاتی ہے آباد کاری کی جاتی ہے یہ نہیں کہ جنرل عباسی صاحب ایک آرڈیننس جاری کریں ’’کچی آبادیاں‘‘ بنانے کیلئے اور پورا شہر ہی کچی آبادی بن جائے۔
سوچتا ہوں ’’جشن کراچی‘‘ کیسے منائوں۔ کراچی کو اب یاد ہی کیا جا سکتا ہے۔ ’’زندہ‘‘ کرنے میں بڑی محنت درکار ہے جس کیلئے ہمیں اس کا وارث بننا پڑے گا۔ بہت نفرت کی سیاست کر لی، میرٹ کا قتل کر کے اس شہر اور صوبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا۔ اب کل کا کراچی ایک ’’خوبصورت خواب‘‘ ہے۔ آج کا کراچی ایک تلخ حقیقت اور مستقبل کا عروس البلاد اِک اُمید۔ آرٹس کونسل مبارک باد کی مستحق ہے کہ اس نے نہ صرف پرانے شہر کو واپس لانے کی کوشش کی ہے بلکہ ایک روشن خیال اور ترقی پسند پاکستان کو یکجا کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔
مظہر عباس
بشکریہ روزنامہ جنگ
کراچی کی طاقتور تجاوزات مافیا
روزنامہ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں تجاوزات کی بھرمار نے شہریوں کو فٹ پاتھوں پر چلنے سے محروم کر دیا ہے اور طاقتور تجاوزات مافیا نے فٹ پاتھ بھی فروخت کرنا شروع کر دی ہیں جس کے بعد سڑکوں کے بعد فٹ پاتھ بھی شہریوں کے لیے شجر ممنوعہ بنا دی گئی ہیں اور شہریوں اور راہگیروں سے فٹ پاتھوں پر چلنے کا بھی حق چھین لیا گیا ہے اور شہر میں سڑکوں کے بعد بلدیہ عظمیٰ کراچی کا محکمہ انسداد تجاوزات ہی نہیں بلکہ علاقوں کے اسسٹنٹ کمشنروں ، پولیس تھانوں کی موبائلوں اور ٹریفک پولیس کی موجودگی میں تجاوزات مسلسل بڑھ رہی ہیں جب کہ وزیر اعلیٰ سندھ، کمشنر کراچی اور میئر بلدیہ عظمیٰ کی ہدایات اور دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ کراچی کی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات کی پہلے ہی بھرمار تھی اور چنگچی رکشے والوں کی وجہ سے سڑکوں پر چلنا تو پہلے ہی ناممکن تھا اور راہگیروں کے چلنے کے لیے جو فٹ پاتھ رہ گئی تھیں ان کو پہلے وہاں کے دکانداروں نے اپنا اضافی سامان رکھنا شروع کیا ہوا تھا اور جو جگہ بچ جاتی تھی وہاں پتھارے لگوا کر ہفتہ وار رقم وصول کر رہے تھے اور فٹ پاتھوں کے کنارے بھی پتھارے قائم ہونے کے بعد راہگیروں کے چلنے کے لیے بہ مشکل ایک ڈیڑھ فٹ جگہ چھوڑ دی جاتی ہے۔
اہم شاہراہوں پر فٹ پاتھوں پر موٹرسائیکلیں کھڑی کی جاتی ہیں یا دکانداروں کی ذاتی گاڑیاں جس کے بعد پتھارے لگائے جاتے ہیں اور آدھی سڑک پر تجاوزات قائم ہونے کے بعد جو جگہ بچتی ہے وہاں چنگچی والوں نے اپنے رکشے کھڑے کر کے شاہراہوں کو مزید تنگ کر رکھا ہے اور بسوں اور گاڑیوں کی تعداد اور موٹر سائیکلوں کی وجہ سے بڑھ جانے سے شاہراہوں پر ٹریفک جام رہنا معمول بنا ہوا ہے۔ شاہراہوں پر کھانے پینے یا جوس کی جو دکانیں ہیں انھوں نے گاہکوں کے لیے اپنی دکانوں میں کوئی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے کرسیاں فٹ پاتھوں پر رکھی ہوئی ہیں۔ ان دکانداروں نے اپنا فروخت ہونے والا سامان دکانوں سے باہر نکال کر فٹ پاتھوں پر قبضہ کیا ہوا ہے اور درمیان میں کچھ جگہ چھوڑ کر کرسیاں گاہکوں کے بیٹھنے کے لیے رکھی ہوئی ہیں۔ رات کو دیگر دکانیں بند ہونے کے بعد وہاں بھی باربی کیو، دہی بڑے فروخت کرنے والے قبضہ کر لیتے ہیں جس کے بعد فٹ پاتھوں پر چلنے کی بھی جگہ باقی نہیں رہتی۔ کھانے کے ہوٹلوں نے فٹ پاتھوں پر ہی نہیں بلکہ سروس روڈ، سڑکوں کے درمیان کی گرین بیلٹوں پر بھی قبضہ کر رکھا ہے اور سروس روڈ اور سامنے کی سڑکوں پر کھانا کھانے آنے والوں کی گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں جس سے سڑکیں مزید تنگ ہو جاتی ہیں۔
رکشوں پر آنے والے لوگوں کے لیے سروس روڈ اور سڑکوں پر رکشے بھی کھڑے رہتے ہیں اور شہر بھر میں رش والے علاقوں میں چنگچی رکشے والوں نے اپنے غیر قانونی اسٹاپ بنا رکھے ہیں جس سے راہگیروں کے لیے سڑکوں پر چلنا ناممکن ہو گیا ہے۔ ریڑھیوں پر مال فروخت کرنے والوں نے بھی سڑکوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ شہر کی اندرونی مارکیٹوں میں پھلوں اور خصوصاً سبزی فروشوں نے تو تجاوزات قائم کرنے کی حد ہی کی ہوئی ہے۔ تجاوزات کے انسداد کے لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی کا ایک محکمہ ڈائریکٹر کے ماتحت مقرر ہے اور کے ڈی اے کا بھی اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ ہے جب کہ شہر کی 26 ٹاؤنز میونسپل کارپوریشنوں میں بھی تجاوزات کا عملہ مقرر ہے اور انھیں سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں ادا کیے جارہے ہیں، لیکن تجاوزات ختم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہیں ۔ وزیر اعلیٰ، کمشنر اور میئر تجاوزات کے خاتمے کے دعوے اکثر کرتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔ شہر کی تجاوزات کمائی کا ذریعہ ہیں جہاں سے متعلقہ عملے کو مفت کا کھانا، سبزی اور فروٹ مفت ملتا ہے جس کی وجہ سے تجاوزات کے خلاف مصنوعی مہم کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔
محمد سعید آرائیں
بشکریہ ایکسپریس نیوز
غیرملکی قرض، مال مفت دل بے رحم
موجودہ حکومت سے ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ IMF سے قرضہ منظورہوتے ہی وہ بے دریغ اپنے اخراجات بڑھا دے گی۔ وہ صبح وشام عوام سے ہمدردی اور انھیں ریلیف بہم پہنچانے کے دعوے توبہت کرتی رہتی ہے لیکن عملاً اس نے انھیں کوئی ایسا بڑا ریلیف نہیں پہنچایا ہے جیسا اس نے اپنے وزرا اور ارکان پارلیمنٹ کو صرف ایک جھٹکے میں پہنچا دیا ہے۔ ہمارے وزیر خزانہ ہر بار عوام کو یہ تسلیاں دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ آپ اگلے چند ماہ میں حکومتی اخراجات کم ہوتے دیکھیں گے۔ اُن کے مطابق حکومت جسے اپنے غریب عوام کا بہت خیال ہے وہ بہت جلد سرکاری اخراجات کم کرے گی، مگر ہم نے پچھلے چند ماہ میں اخراجات کم ہوتے تو کیا بلکہ بے دریغ بڑھتے ہوئے ہی دیکھے ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے نام نہاد مسیحا عوام سے تو ہر وقت قربانی دینے کی درخواستیں کرتے ہیں لیکن خود وہ کسی بھی قسم کی قربانی دینے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ سارے کے سارے خود ساختہ عوامی غم خوار اللہ کے فضل سے کسی غریب طبقہ سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔















